خلا میں ہوٹل
خلا میں ہوٹل۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!
"ہم ٹیکنالوجی میں بہت ہی پیچھے ہیں، کیوں کہ ہمیں سب کچھ تیار ملتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایسے میں ہم دنیا کا مقابلہ کیوں کر کریں؟ پنسل سے لیکر
جہاز اور سیٹلاٸٹ تک سب ہمیں چین اور امریکہ دیتے ہیں۔۔۔۔۔ تو ہم پنسل یا جہاز کیوں بناٸیں۔۔۔؟ آپ کی جیب میں جو بال پین ہے،، اس پر made in china لکھا ہے۔ گویأ ہم اس قدر دیگر ممالک پر انحصار کرتے ہیں کہ بال پین تک نہیں بناسکتے ۔۔۔۔۔اس وقت آپ کے گھر یا دوکان میں جو چیزیں پڑی ہیں۔۔۔۔۔ اس کو ایک بار غلطی سے چیک کریں کہ یہ کس ملک سے آٸے ہیں۔اگر چہ ان میں بہت ساری چیزیں اس قدر آسانی سے تیار ہوتی ہیں،،،، کہ میں بتا نہیں سکتا لیکن ہم وہ بھی باہر ممالک سے منگواتے ہیں،، اور خود بنانے کی زخمت گوارا نہیں کرتے۔اب ایسے میں ملک stable ہونے کا یقین رکھنا سراسر بےوقوفی ہے۔۔ آپ لوگ یقین نہیں کریں گے کہ ہسپتال میں موجود جو عام بیڈز ہوتے ہیں۔۔۔ وہ بھی ہماری حکومت چین سے منگواتی ہے،،،،، جو مجھ جیسا ناچیز بھی بڑی اسانی سے بنا سکتا ہے،،،،،،،، ظاہر ہے جو ملک ہسپتال کے بیڈز بھی باہر سے منگواتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو وہ کیسے دوسرے ممالک کا مقابلہ کرپاۓ گا۔۔۔۔۔؟
جیسا کہ آپ کو معلوم ہے،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،کہ مختلف ممالک کے astronauts اسپیس میں گھوم رہے ہیں بعض فلکیات دان ISS اور "TSS" میں گھوم رہے ہیں اور تحقيقات کررہے ہیں۔ اور زمین والوں کو مختلف چیزوں کے بارے میں روزانہ کی بنیاد پر آگاہ کرتے رہے ہیں۔۔۔ چونکہ ان لوگوں کو قلیل مقدار میں ہر دوسرے تیسرے مہینے "کھانا" پہنچانا بہت مہنگا پڑتا ہے۔۔۔۔اس وجہ سے ناسا نے اسپیس میں ایک ہوٹل کھولنے پر کام شروع کردیا ہے اس کے لیے "milestone" بھی رکھے گۓ ہیں۔
یقین کرنا مشکل ہے۔۔ لیکن یہ سچ ہے کہ "امریکہ" کی آربیٹل اسمبلی کارپوریشن نے 2027 میں "Space" میں اپنا پہلا ہوٹل کھولنے کا منصوبہ بنایا ہے۔۔۔ یہ منصوبہ دراصل ہلٹن کا ہے، اور وہ اس ہوٹل کا پرٹنرز بھی ہوگا۔ خلائی ہوٹل ایک بڑا خلائی ڈھانچہ ہے۔یہ ہوٹل 240 میٹر لمبا ہے جو چار حصوں پر مشتمل ہوگا۔ اس ہوٹل میں توانائی کی فراہمی کیلٸے ایک گیسٹ روم، ایک عوامی علاقہ اور ایک خوبصورت پلیٹفارم ہوگا۔۔ ناسا کا کہنا ہے کہ یہ ہوٹل دراصل زمین کے نچلے مدار میں تیرے گا اور ایسے لوگوں کو خلائی سفر سے لطف اندوز ہونے کی سہولت فراہم کرے گا۔۔ناسا اور CNN کے مطابق یہ ہوٹل تقریبا تین سالوں میں مکمل طور پر فعال ہوگا۔جو اپنے صارفین کو دنیا سے باہر کی عیش و آرام فراہم کرے گا۔
جبکہ اپنے ہاں "پاکستانی گورنمنٹ" نے ساری قوم کو آٹے کے پیچھے لگادیا ہے۔ہم ائندہ دو مہینے کیلۓ منصوبہ بندی نہیں کر سکتے،،،،،،، جبکہ یہ ممالک انے والے سو دوسو اور تین سو سال کی سوچ رکھتے ہیں۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ ہم حقیقت میں زندہ باد اور مردہ باد والی قوم ہے۔۔۔۔۔ جبکہ باقی ممالک کہاں سے کہاں پہنچ رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ہم 1947 سے مسلسل پیچھے جارہے ہیں۔۔ہم جو کتابیں فالو کرتے ہیں۔ان کو لکھنے والے زیادہ تر انڈینز ہیں۔۔۔۔۔۔۔اب ہم کیسے ان لوگوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں؟
تحریر Tehsin Ullah Khan

Comments
Post a Comment