نئی نسل اور بغاوت
"پکچر پزل"
یہ خواب دیکھے
تو اس کی آنکھیں
سلگتی سیخوں کی تیز نوکوں سے چھید دینا
کہ اس کی آنکھوں میں خواب کوئ نہ پھر سماۓ
اگر یہ چیخے
تو اس کے ہونٹوں کو سخت دھاگوں میں یوں پرونا
کہ کوئ سسکی بھی اسکے لب سے نکل نہ پاۓ
زبان کھولےتو
کندخنجرسےکاٹ دینازبان اسکی
کہ اس کے لفظوں کا خون بہہ کر
اسی کے ہونٹوں پہ پھیل جاۓ
سماعتوں پر یہ دھیان بھی دے
تو اس کے کانوں کی نالیوں میں
پگھلتا سیسہ انڈیل دینا
کہ اس کے اندر
نواۓ دل کاغرور۔تاباں رہے نہ باقی
سفر کا سوچے
تو اس کے پاؤں ہی کاٹ دینا
کہ اس کے دل میں مسافتوں کا
کوئ بھی ارماں رہے نہ باقی
یہ بادلوں کی ردائیں مانگے
برہنہ سورج کا قہر دینا
سمندروں کی طلب کرے تو
زمین۔ تشنہ کی لہر دینا
حقیقتوں کا پیام چاہے
فریب کاری کا سحر دینا
یہ شہد مانگےتو زہر دینا
خیال رکھنا
یہ فکر۔نو کا پیامبر ہے
نۓ خیالوں ، نئ امیدوں ،
نئ امنگوں کا ہمسفر ہے
یہ آنے والی نئ رتوں کا بھی
چارہ گر ہے
خیال رکھنا
وجوداسکا تم اتنےٹکڑوں میں
بانٹ دینا
یہ اپنے ٹکڑوں کو جب سمیٹے
اور ان کو پھر جوڑنے کا سوچے
تو پ
![]() |
چھلی ترتیب بن نہ پاۓ
یہ اپنی پہچان بھول جاۓ!

Comments
Post a Comment