سات زمینیں ، ہم اور پیرالل یونیورس

 ‏صحیح بخاری اور دیگر کتب احادیث و سیرت میں مستند حوالوں سے ایک واقعہ مذکور ہے۔ مفسر قرآن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس ایک بدو آیا اور اس نے سورہ ’الطلاق‘ کی 12 ویں آیت’’ الله الذي خلق سبع سماوات ومن الأرض مثلهن‘‘ [اللہ وہ ذات ہے جس نے سات آسمان بنائے اور زمین جسی زمینیں بھی تخلیق کیں] کی تفسیر پوچھی۔

کہ سات زمینیں کہاں ہیں؟


 حضرت ابن عباس خاموش رہے۔ اس شخص نے دوبارہ استفسار کیا اور پوچھا کہ آپ اس کی وضاحت کرنے سے گریز کیوں کر رہے ہیں؟۔ اس پرحضرت ابن عباس نے کہا کہ اگر میں اس کی تفسیر بتا دوں تو مجھے ڈر ہے کہ تم کفر کے راستے پر چل پڑو گے۔ اس شخص نے اپنے ایمان پر قائم رہنے کی یقین دہانی کرائی۔


 اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ’’سات زمینوں سے مراد ہماری زمین ہی جیسی سات اور زمینیں موجود ہیں۔ ہر زمین پر ہمارے پیغمبر [محمد صلی اللہ علیہ وسلم] کی طرح رسول آئے ہیں۔ حضرت آدم کی طرح وہاں بھی آدم، نوح کی طرح ان زمینوں پر بھی نوح، ابراہیم خلیل اللہ کی طرح وہاں بھی ابراہیم اور عیسیٰ کی طرح وہاں بھی عیسیٰ مبعوث ہوئے ہیں‘‘۔ روایات کے مطابق سوال پوچھنے والا شخص اپنے ایمان اور اسلام پر قائم رہا اور اس کے بعد اس نے 68 سال مزید زندگی بھی گذاری۔


تفسیر ابن کثیر۔۔ سورہ طلاق آیت 12Published from Blogger Prime Android App

Comments

Popular posts from this blog

ہوشیار ! آجکل کے آنلائن انوسٹمنٹ فراڈ

The story of Curiosity Rover.

چیٹ جی پی ٹی۔ Chat Gpt